Tuesday, November 28, 2023

Friday statements and hadiths

میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور لیث نے اس میں یہ زیادتی کی کہ یونس نے بیان کیا کہ رزیق بن حکیم نے ابن شہاب کو لکھا ، ان دنوں میں بھی وادی القریٰ میں ابن شہاب کے پاس ہی تھا کہ کیا میں جمعہ پڑھا سکتا ہوں ۔ رزیق ( ایلہ کے اطراف میں ) ایک زمین کاشت کروا رہے تھے وہاں حبشہ وغیرہ کے کچھ لوگ موجود تھے ۔ اس زمانہ میں رزیق ایلہ میں ( حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے ) حاکم تھے ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں لکھوایا ، میں وہیں سن رہا تھا کہ رزیق جمعہ پڑھائیں ۔ ابن شہاب رزیق کو یہ خبر دے رہے تھے کہ سالم نے ان سے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا امام نگراں ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا ۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا Narrated Ibn `Umar: I heard Allah's Apostle saying, All of you are Guardians. Yunis said: Ruzaiq bin Hukaim wrote to Ibn Shihab while I was with him at Wadi-al-Qura saying, Shall I lead the Jumua prayer? Ruzaiq was working on the land (i.e farming) and there was a group of Sudanese people and some others with him; Ruzaiq was then the Governor of Aila.Ibn Shihab wrote (to Ruzaiq) ordering him to lead the Jumua prayer and telling him that Salim told him that`Abdullah bin `Umar had said,I heard Allah's Apostle saying,'All of you are guardians and responsible for your wards and the things under your care.The Imam (i.e. ruler) is the guardian of his subjects and is responsible for them and a man is the guardian of his family and is responsible for them.A woman is the guardian of her husband's house and is responsible for it.A servant is the guardian of his master's belongings and is responsible for them.'I thought that he also said, 'A man is the guardian of his father's property and is responsible for it. All of you are guardians and responsible for your wards and the things under کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ ان کا آپس میں اس پر اختلاف تھا کہ منبر نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی لکڑی کس درخت کی تھی ۔ اس لیے سعد رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا خدا گواہ ہے میں جانتا ہوں کہ منبر نبوی کس لکڑی کا تھا ۔ پہلے دن جب وہ رکھا گیا اور سب سے پہلے جب اس پر رسول اللہ ﷺ بیٹھے تو میں اس کو بھی جانتا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی فلاں عورت کے پاس جن کا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے نام بھی بتایا تھا ۔ آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے میرے لیے لکڑی جوڑ دینے کے لیے کہیں تاکہ جب مجھے لوگوں سے کچھ کہنا ہو تو اس پر بیٹھا کروں چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا اور وہ غابہ کے جھاؤ کی لکڑی سے اسے بنا کر لایا ۔ انصاری خاتون نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا آنحضور ﷺ نے اسے یہاں رکھوایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی پر ( کھڑے ہو کر ) نماز پڑھائی اسی پر کھڑے کھڑے تکبیر کہی ۔ اسی پر رکوع کیا ۔ پھر الٹے پاؤں لوٹے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا اور پھر دوبارہ اسی طرح کیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو خطاب فرمایا ۔ لوگو ! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنی سیکھ لو Narrated Abu Hazim bin Dinar:Some people went to Sahl bin Sa`d As-Sa`idi and told him that they had different opinions regarding the wood of the pulpit. They asked him about it and he said, By Allah, I know of what wood the pulpit was made, and no doubt I saw it on the very first day when Allah's Apostle took his seat on it. Allah's Apostle sent for such and such an Ansari woman (and Sahl mentioned her name) and said to her,'Order your slave-carpenter to prepare for me some pieces of wood (i.e. pulpit) on which I may sit at the time of addressing the people.' So she ordered her slave-carpenter and he made it from the tamarisk of the forest and brought it (to the woman).The woman sent that (pulpit) to Allah's Apostle who ordered it to be placed here. Then I saw Allah's Apostle praying on it and then bowed on it. Then he stepped back,got down and prostrated on the ground near the foot of the pulpit and again ascended the pulpit. After finishing the prayer he faced the people and said, 'I have done this so that you may follow me and learn the way I pray.'

No comments:

Post a Comment

Rules and problems of prayer in travel,..سفر میں نماز کے احکام و مسائل

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ...