Tuesday, December 5, 2023

Why did the creature desire begin?

حدیث (3190) بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے بنی تمیم کے لوگو ! تمہیں بشارت ہو ۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت جب آپ نے ہم کو دی ہے تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجیے اس پر آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا ، پھر آپ کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو آپ نے ان سے بھی فرمایا کہ اے یمن والو ! بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نہیں کیا ، اب تم اسے قبول کر لو انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا پھر آپ مخلوق اور عرش الٰہی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے اتنے میں ایک ( نامعلوم ) شخص آیا اور کہا کہ عمران ! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی ۔ ( عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) کاش ، میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا Hadith #3190 Narrated `Imran bin Husain: Some people of Bani Tamim came to the Prophet and he said (to them), O Bani Tamim! rejoice with glad tidings. They said, You have given us glad tidings, now give us something. On hearing that the color of his face changed then the people of Yemen came to him and he said, O people of Yemen ! Accept the good tidings, as Bani Tamim has refused them. The Yemenites said, We accept them. Then the Prophet started taking about the beginning of creation and about Allah's Throne. In the mean time a man came saying, O `Imran! Your she-camel has run away!'' (I got up and went away), but l wish I had not left that place (for I missed what Allah's Apostle had said). حدیث3191 میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ہی پر باندھ دیا ۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا ” اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو ۔“ انہوں نے دو بار کہا کہ جب آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو اب مال بھی دیجیے ۔ پھر یمن کے چند لوگ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے ۔ آپ ﷺ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ خوشخبری قبول کر لو اے یمن والو ! بنو تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی ۔ وہ بولے : یا رسول اللہ ! خوشخبری ہم نے قبول کی ۔ پھر وہ کہنے لگے ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے اس ( عالم کی پیدائش ) کا حال پوچھیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۔“ ( ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ ابن الحصین ! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی ۔ میں اس کے پیچھے دوڑا ۔ دیکھا تو وہ سراب کی آڑ میں ہے ( میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ہے یعنی وہ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے ) اللہ تعالیٰ کی قسم ، میرا دل بہت پچھتایا کہ کاش ، میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا ( اور آنحضرت ﷺ کی حدیث سنی ہوتی ) ۔ Hadith319 Narrated Imran bin Husain: I went to the Prophet and tied my she-camel at the gate. The people of Bani Tamim came to the Prophet who said O Bani Tamim! Accept the good tidings. They said twice, 'You have given us the good tidings, now give us something Then some Yemenites came to him and he said, Accept the good tidings, O people of Yemem, for Bani Tamim refused them. They said, We accept it, O Allah's Apostle! We have come to ask you about this matter (i.e. the start of creations). He said, First of all, there was nothing but Allah, and (then He created His Throne). His throne was over the water, and He wrote everything in the Book (in the Heaven) and created the Heavens and the Earth. Then a man shouted, O Ibn Husain! Your she-camel has gone away! So, I went away and could not see the she-camel because of the mirage. By Allah, I wished I had left that she-camel (but not that gathering) ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی ۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے ( وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا ) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا ۔ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی ۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے ( وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا ) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا ۔ Narrated 'Umar: One day the Prophet stood up amongst us for a long period and informed us about the beginning of creation (and talked about everything in detail) till he mentioned how the people of Paradise will enter their places and the people of Hell will enter their places. Some remembered what he had said, and some forgot

No comments:

Post a Comment

Rules and problems of prayer in travel,..سفر میں نماز کے احکام و مسائل

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ...